پٹنہ،26؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بہار میں نتیش کمار کابینہ کی جانب سے منظور کردہ ریاست کے نئے انسداد منشیات اور مصنوعات ایکٹ کی ایک اہم دفعہ کی تجویزہے۔پیر کو منظورہوئے اوربہاراسمبلی کے دونوں ایوانوں میں اگلے ہفتے بحث کے لیے آنے والے اس بل میں تجویزہے کہ اگر کسی کے گھر میں شراب کی بوتل ملی توخاندان کے سبھی بالغوں کو اس کا ذمہ دار مانتے ہوئے انہیں نہ صرف جیل بھیجا جائے گا بلکہ اس کے لیے 10سال کی سزاکی بھی تجویز ہے ۔ملزم خاندان والوں کو ایسی صورت میں کورٹ میں خود سے معصوم ثابت کرنا ہوگا۔حالانکہ کابینہ کی میٹنگ میں کئی وزراء نے اس مجوزہ بل کی قانونی اور عملی بنیاد پر خامیاں شمارکرائی ہیں لیکن وزیراعلیٰ نتیش کمارنے صاف کردیاہے کہ ماضی میں جب بھی الکوحل پرپابندی لگائی گئی تو قانونی تجویز نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔ویسے دونوں ایوانوں میں بحث کے دوران نئی تجاویز کو بھی شامل کرنے کے لیے حکومت تیارنظرآئی لیکن عدالت میں نیا قانون کتناٹک پائے گا،اس پر ابھی سے بحث شروع ہو گئی ہے۔اس درمیان، ریاست کے نسداد الکوحل کے وزیر عبدالجلیل مستان نے صاف کیا ہے کہ ان معاملات میں مکھیا اور پڑوسی کسی بھی حالات میں ملزم نہیں بنائے جائیں گے جیسا کہ میڈیا کے ایک طبقے میں اس کے بارے میں شائع ایک رپورٹ میں ذکرکیا گیا تھا۔اسی طرح خواتین اور بچوں کو شراب کے کاروبار میں لگانے پر کم از کم 10سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دئیے جانے کی تجویزہے۔اس کے علاوہ اگر کسی عورت نے اپنے ساتھ شراب پی کر مار پیٹ کیے جانے کی شکایت کی تو متعلقہ مرد کو نشہ مکتی مرکز میں کچھ مہینہ رہنا ہوگا۔اس قانون کے لاگو ہونے پر شراب سے متعلق ہر معاملے کو غیر ضمانتی مانا جائے گا۔اس درمیان، شراب سے متعلق ایک معاملہ کے دوران ریاستی حکومت نے پٹنہ ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ ریاست میں شراب بندی سے پہلے کسی کے گھر میں اگر شراب کی چار بوتل ملیں ہیں تو اس پر کارروائی نہیں ہوگی، لیکن یہ ساری بوتلیں نئے پروڈکٹ ایکٹ سے پہلے کی ہونی چاہیے ۔معاملہ جے ڈی یو کی ایم ایل سی منورما دیوی متعلق ہے۔دراصل منورما دیوی نے اس معاملے میں عدالت کی پناہ لی ہے۔ویسے، ریاستی حکومت کے نئی پروڈکٹ ایکٹ کو چیلنج دینے والی مفادعامہ کی عرضی پر سماعت کے بعد پٹنہ ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔